ALL NEWS UPDATES ARE HERE

Dajal Kia Ha




The Standard is located at East Village. This hotel is situated at 25 Cooper Sq, New York, NY 10003, USA. The hotel has beautiful view of New York City.

This hotel has 144 rooms and suits. The bed rooms have single double and triple bedrooms with attached washrooms. All the rooms are fully air conditioner.This hotel facilitates you with 24 Hour Reception. This hotel also accommodates with housekeeping service.



There is a restaurant in the hotel. The hotel has a bar.Every room has Coffee and Tea Maker tray and refrigerators. All the rooms are facilitated with color Television with all movie channels and news channels.The free internet service has been provided to all the rooms.






دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ،رنگ سرخ یا گندمی ہو گا، سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ۔اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا۔شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین

میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا ۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا، اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے۔جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے،درختوں پر پھل آجائیں گے۔کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے۔اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بالوں کی طرح رواں ہو گی، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا، تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہراداری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا۔اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے،باہر نکلتے ہیں دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا۔آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اورخاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے ،مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال کی اجازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا۔جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا کہ میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہوجائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا درباری فوراً اس کے دو ٹکڑے کردیں گے۔دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردو تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا۔یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا۔دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الٰہی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آگیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اسکی قدرت سلب کر لی جائے گی دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گالیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی۔ اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے۔دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا ایک دن ایک سال دوسرا ایک مہینہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے۔امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی،کیونکہ وہ اپنے مادی وافرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میں دھاک بٹھا چکا ہو گااس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا۔حضرت مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے۔تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے۔ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کوارٹر ہو گا۔امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے مصلے کی طرف بڑھیں گے،تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا۔نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گاجیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپاہے ،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔پھر وہ صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے ،خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا۔







The hotel accommodates with laundry services and dry cleaning facility.The staff of the hotel is friendly and multilingual.

There are business centers. The staff can help you managing a conference here if you want. The hotel can accommodate you with tourist information if you want. You can also rent bike from the hotel. The hotel accommodates with paid parking for the guests.


There are many attractive places in the surrounding of the hotel. This hotel is so close to the Central Park. The Standard hotel is at walking from Merchant’s House Museum. The Orpheum Theater is also at 5 minutes walking distance. The Tompkins Square Park is so close to the hotel. There is a fitness center nearby the hotel. The hotel charges are from $311 to $843.



No comments:

Note: only a member of this blog may post a comment.

Powered by Blogger.