ALL NEWS UPDATES ARE HERE

Asfa Bhtoo On ByNazir




The Standard is located at East Village. This hotel is situated at 25 Cooper Sq, New York, NY 10003, USA. The hotel has beautiful view of New York City.

This hotel has 144 rooms and suits. The bed rooms have single double and triple bedrooms with attached washrooms. All the rooms are fully air conditioner.This hotel facilitates you with 24 Hour Reception. This hotel also accommodates with housekeeping service.



There is a restaurant in the hotel. The hotel has a bar.Every room has Coffee and Tea Maker tray and refrigerators. All the rooms are facilitated with color Television with all movie channels and news channels.The free internet service has been provided to all the rooms.







اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق رہنماء اور شہید بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی اور پارٹی ہوتی تو شاید بی بی کے قتل کیس کے ساتھ اتنا ظلم نہ ہوتا، آصف علی زرداری پاکستان کے صدر صرف بینظیر کے انتقال کے باعث بنے، انھوں نے تحقیقات کروائی ہی نہیں، اصل قاتل ڈھونڈنا پیپلز پارٹی کا کام ہے’یہ اب پیپلز پارٹی رہی ہی نہیں ہے، یہ اب زرداری لیگ بن گئی ہے،میں، صفدر اور مخدوم عینی شاہد تھے لیکن ہمیں تو کبھی عدالت نے بلا کر نہیں پوچھا،

بہت سارے سوال ہیں جن کے جواب نہیں ہیں۔ اگر تحقیقات ہوئیں تو نشانات بہت دور تک جائیں گے۔‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کیا۔27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے جلسے میں جب بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو اس وقت ان کی قریبی ساتھی ناہید خان ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھیں۔اس دن کے حادثے کو یاد کرتے ہوئے ناہید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث بینظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نکلنے سے متعدد بار منع کیا لیکن انھوں نے کسی کی نہ سنی۔ ’وہ عوامی لیڈر تھیں اور عوام کی لیے ہی جان دے دی۔ وہ لیڈر تھیں ہم ان کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو کئی بار سکیورٹی رسک کے بارے میں بتایا لیکن وہ ہمارے ساتھ جھگڑتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اس سے بہتر ہے کہ میں بھی سیاست چھوڑ دوں اور تم لوگ بھی چھوڑ دو، میں یہ بزدلوں والی سیاست نہیں کر سکتی۔ وہ کہتی تھیں کہ میرے کارکن کیا سوچیں گے کہ ہماری لیڈر اتنی بزدل ہے کہ ہم باہر کھڑے ہیں صبح سے شام تک اور یہ ہمیں اپنی شکل بھی نہیں دکھاتی۔‘اس شام کو یاد کرتے ہوئے ناہید خان نے بتایا کہ ’جلسے کے بعد بینظیر بھٹو گاڑی میں آ کر بیٹھیں تو بہت خوش اور پرجوش تھیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی انھوں نے مجھے گال پر چوما تو صفدر صاحب نے کہا کہ جلسے کی کامیابی کا تھوڑا سا کریڈٹ آج مجھے بھی دے دیں۔اس پر بینظیر صاحبہ نے کہا نہیں صفدر آج کی کامیابی صرف ناہید کے باعث ہے۔ میں نے بھی جواباً بی بی کو گلے لگایا۔ جیالے اتنے پرجوش تھے کہ گاڑی کو گھیر لیا اور نعرے لگانے لگے۔ بی بی نے ڈرائیور کو کہا میگا فون دو، جو انہوں نے صفدر کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ کیوں نے کچھ نعرے لگائیں؟ خود بھی انھوں نے جیے بھٹو کے نعرے لگائے اور نعرے لگاتی ہوئی گاڑی کی چھت سے سر باہر نکال لیا۔‘بینظیر بھٹو کے قتل سے قبل کیا انھوں نے کوئی غیر معمولی بات کہی یا اشارہ دیا،جب یہ سوال ناہید خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے 23 دسمبر کو گڑھی خدا بخش قبرستان میں پیش آنے والا واقعہ سنایا۔ ’پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ میں جلسہ تھا تو اس سے قبل بینظیر بھٹو گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کے قبرستان میں گئیں۔ وہاں وہ اپنے والد اور بھائیوں کے قبر کی بجائے پہلے خاندان کے باقی تمام لوگوں کی قبر پر گئیں۔ بھٹو خاندان کے افراد کی عموماً زندگی پچاس سال تک ہی ہوتی ہے، ایسا کہا جاتا ہے، ذوالفقار بھٹو اور ان کے بھائی کو ہی دیکھ لیں۔تو اس بات پر بینظیر صاحبہ نے بے اختیار بولا لیکن ناہید میری عمر تو 54 سال ہے۔ میں بالکل خاموش ہو گئی کہ یہ کیا بات کی ہے انھوں نے۔ پھر قبرستان سے باہر جاتی ہوئی بی بی واپس مڑیں اور اسی مقام پر آ کر رک گئیں جہاں ان کی اب قبر ہے۔ اس جگہ کو دیکھ کر بولیں، ناہید ایک دن ہم نے بھی تو یہیں آنا ہے۔ تب مجھے یہ سب بہت عجیب لگا تھا لیکن آج سمجھ آ رہا ہے کہ بی بی کو ان کے آخری وقت کا احساس ہو گیا تھا۔‘ستائیس دسمبر کے لیاقت باغ کے جلسے کے حوالے سے ناہید خان نے بتایا کہ بینظیر بھٹو بہت پرجوش تھیں لیکن ان کو وہاں کچھ ایسا دکھائی دیا، جو اور کسی نے نہیں دیکھا۔ ’جب وہ سٹیج پر گئیں تو مسلسل سامنے دیکھ رہی تھیں، میں نے سوچا شاید لوگوں کا ہجوم دیکھ رہی ہیں۔ یکدم مجھے بلا کر کہتی ہیں دیکھو وہ جو دو درخت ہیں ان کے درمیان کچھ کالا سا ہے۔راولپنڈی میں تو سردیوں میں دھند اتنی ہوتی ہے لیکن غور سے دیکھنے پر میں نے کہا بی بی وہاں کچھ نہیں ہے۔ تو انھوں نے کہا اچھا مخدوم بھی یہی کہہ رہے ہیں، شاید میری نظر کمزور ہو گئی ہے۔ میں نے اس وقت تو نظر انداز کر دیا لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ان کو کچھ پتا چل گیا تھا۔‘پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بینظیر قتل کیس کی پیروی صحیح سے نہ کیے جانے پر ناہید خان برہم ہوئیں اور کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی اور پارٹی ہوتی تو شاید بی بی کے قتل کیس کے ساتھ اتنا ظلم نہ ہوتا۔آصف علی زرداری پاکستان کے صدر صرف بینظیر کے انتقال کے باعث بنے، ان کی اپنی کوئی قابلیت نہیں تھی۔ تمام ایجنسیاں ان کے ماتحت کام کر رہے تھیں لیکن انھوں نے تحقیقات کروائی ہی نہیں۔‘بینظیر قتل کیس سے متعلق جب بھی پیپلز پارٹی پر تنقید ہوئی تو دفاع میں انھوں نے کہا ہے کہ گرفتار ملزمان صرف فرنٹ مین ہیں، اصل قاتل کوئی اور ہے۔اس حوالے سے ناہید خان کا کہنا تھا کہ اصل قاتل ڈھونڈنا پیپلز پارٹی کا کام ہے۔’یہ اب پیپلز پارٹی رہی ہی نہیں ہے، یہ اب زرداری لیگ بن گئی ہے، اگر یہ پیپلز پارٹی ہوتی تو سب سے پہلے اپنے قائد کے قتل کی کھوج لگاتے۔ میں، صفدر اور مخدوم عینی شاہد تھے لیکن ہمیں تو کبھی عدالت نے بلا کر نہیں پوچھا۔ بہت سارے سوال ہیں جن کے جواب نہیں ہیں۔ اگر تحقیقات ہوئیں تو نشانات بہت دور تک جائیں گے۔







The hotel accommodates with laundry services and dry cleaning facility.The staff of the hotel is friendly and multilingual.

There are business centers. The staff can help you managing a conference here if you want. The hotel can accommodate you with tourist information if you want. You can also rent bike from the hotel. The hotel accommodates with paid parking for the guests.


There are many attractive places in the surrounding of the hotel. This hotel is so close to the Central Park. The Standard hotel is at walking from Merchant’s House Museum. The Orpheum Theater is also at 5 minutes walking distance. The Tompkins Square Park is so close to the hotel. There is a fitness center nearby the hotel. The hotel charges are from $311 to $843.



No comments:

Note: only a member of this blog may post a comment.

Powered by Blogger.